Ertugrul And Haleema Sultan Adventure

 

Tenday Ki Sabzii 

ارطغرل اب کھیت میں کام کرتے کرتے تھک چکا تھا ۔ اس کی نظریں ، اس راستے کا طواف کر رہیں تھیں جہاں سے اس کی غزالی آنکھوں والی نے آنا تھا۔

یوں درخت کے نیچے بیٹھے اپنی زندگی کے حسین پلوں کو یاد کرنے لگا اور پہلی فرصت میں اسکو اپنا خوشنما اور حسین و جمیل دوشمن نویان نظر آیا ۔آہ نویان کتنے حسین دن تھے وہ ، اس نے ٹھنڈی آہ بھری ۔ اب چونکہ اس کے پاس لڑنے کے لیے کوئی دشمن نہیں تھا تو وہ اس منحوس کھیت میں کام کرتا تھا ۔

اس کی نظر دور سے آتی ہوہی حلمیہ پر پڑی وہ اس کے لیے روز اسی وقت کھانا لا

تی تھی وہ اب پہلے سے زیادہ خوبصورت ہو گئی تھی یا پھر میری نظر کمزور ہو گئی ھے اس نے دل میں اعترف کیا۔۔

ارطغرل مجھے زیادہ دیر تو نہیں ہوئی یہ جملہ کہتے ہوئے وہ کھانا لگانے لگی تھی ۔ آج میں نے تمھاری پسند کی ٹنڈے کی سبزی بنائی ہے ارطغرل۔

ٹنڈے کی سبزی اس کو بہت پسند تھی ارتغرل پہ یہ انکشاف پہلی دفعہ آج ہوا تھا یا پھر ہو سکتا ہے میری یاداشت بھی نظر کی طرح کمزور ہو چکی ہے۔

ارطغرل کھانا کھانے لگا ،جبکہ حلیمہ سلطان اپنے 13000 واے کیو -موبائل پر لڈو والی گیم کھیلنے لگی وہ اکثر اپنے فارغ اوقات میں اپنے سیل پر محو رہتی تھی ۔ ارطغرل چونکہ بہت کیرنگ شوہر تھا تو وہ ایک نوالہ خود کھاتا تو دوسرا اپنی جان سے عزیز بیوی کو کھلاتا۔۔اوہ زلیل کتے ،  

ارطغرل کی سماعتوں سے یہ الفاظ ٹکرائے جب ارطغرل معمول کی طرح ندی سے پانی پینے گیا ہو تھا، یہ آواز تو حلیمہ کی تھی، اس کو اپنا وجود بھاری بوجھ تلے دبتا محوس ہوا۔۔ اب اسے جلد سے جلد حلیمہ کے پاس جانا تھا اس کی جان خطرے میں تھی ، کہیں منحوس صلیبی پھر تو نازل نہیں ہو گئے ، اس نے تلوار کو اٹھاتے ہوئے سوچا  نہیں وہ نہیں ہو سکتے ،کہیں منگول   نہ ہوں۔

وہ ہانپتا ہوا حلیمہ کے پاس گیا۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے یوں جیسے کسی نے نوچا ہو ارطغرل نے آس پاس کا جائزہ لیا وہاں کوئی نہیں تھا ۔وہ فورا حلیمہ کے پاس آیا کیا ہوا ہے ۔۔۔ کس نے حملہ کیا ؟ کون تھا ؟ کیا کو ئی ڈاکو تھا ؟ حلیمہ نے نہ میں سر سے نفی کی وہ کچھ بولنے کی پوزیشن میں نہیں تھی ،آنسو اس کے رخسار پہ بارش کی طرح برس رہے تھے۔

کیا کوئی منگول تھا ارطغرل نے ججھکتے ہوئے دوبارہ سوال کیا ؟ 

پہلے کی طرح جواب پھر نفی میں تھا۔

ارطغرل نے خود کو جیسے بند گلی میں پایا، اس کی جان سے عزیز بیوی پر حملہ ہوا اور حملہ وار غائب ہو چکا تھا  ، اس کو اپنے کانوں میں انتقام انتقام کی صدا سنائی دینے لگی ۔اس نے حلیمہ کو پانی کا گلاس دیتے ہوئے دوبارہ پوچھا مجھے کچھ بتاؤ کس نے کیا تم پہ حملہ ،کیسا تھا ؟ کوئی حلیہ کوئی شناخت۔۔۔

حلیمہ نے اپنا موبائل فون زمین سے اٹھاتی ہوئی گویا ہوئی ۔ 

" کچھ نہیں ارطغرل میں وہ لڈو کا میچ ہار گئی تھی "۔      

Comments

Popular posts from this blog

Research potential online income streams

Imam Hussain Ibn Ali Ibn Abi Talib A.s